اتوار، 16 اکتوبر، 2016

چھوڑو جانے دو

مجھے اک بات کرنی ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے تم سے پریت ہو گئی ہے
چلو چھوڑو جانے دو

مجھے ٹھکرانے کا تم کو حق ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے پریت سے نہ روکو یہ ستم ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے موت آجانے سے پہلے تم کو بتانا ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے فقط تم سے اتنا کہنا ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے اپنی بانہوں کے گھیرے میں تم کو سمیٹنا ہے
چلو چھوڑو جانے دو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں