مجھے اک بات کرنی ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے تم سے پریت ہو گئی ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے ٹھکرانے کا تم کو حق ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے پریت سے نہ روکو یہ ستم ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے موت آجانے سے پہلے تم کو بتانا ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے فقط تم سے اتنا کہنا ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے اپنی بانہوں کے گھیرے میں تم کو سمیٹنا ہے
چلو چھوڑو جانے دو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں