اتوار، 16 اکتوبر، 2016

نام محبّت ہوگا

پل پل جینا پل پل مرنا ہوگا
ارے اسی کا نام محبّت ہوگا
بے چینی میں اک چین ہوگا
ارے اسی کا نام محبّت ہوگا

چھوڑو جانے دو

مجھے اک بات کرنی ہے
چلو چھوڑو جانے دو
مجھے تم سے پریت ہو گئی ہے
چلو چھوڑو جانے دو

اک لڑکی

اک لڑکی بہت دنوں سے اداس ہے
اس کے لہجے میں عجب سی مٹھاس ہے

تلاش

مجھے رونقوں میں نہ تلاش کرو
میں اداسیوں کے نام ہوں
میرا حسرتوں سے کیا واسطہ
میں ناامیدیوں کے نام ہوں

محبّت

ہر سوں چاند بکھیرنے لگی ہے محبّت 
                        کہ کسی کو خوبصورت لگنے لگی ہے محبّت
ہم بھی کچھ نہ کچھ مچلنے لگے
                       کہ ہمیں بھی خود میں گدگدانے لگی ہے محبّت

جمعرات، 6 اکتوبر، 2016