جمعہ، 15 ستمبر، 2017

نہ میں سمجھا کسی کو، نہ کوئی مجھکو سمجھ پایا


نہ میں سمجھا کسی کو، نہ کوئی مجھکو سمجھ پایا


حیات اور موت کے مابین نہ رشتہ سمجھ آیا


بہت بھٹکے ہیں بچپن سے سوال، آوارگی اور میں


سوال، انگلی پکڑ کر لے گیا دنیا کے میلے میں


مذاھب، فرقے، رشتے، جھوٹ، نفرت، بغض، خونریزی


نہیں اچھا لگا میلہ، کسی سے کہہ نہیں پایا..


سواے ہم سخن کے، سب ملے، ملتے رہے مجھ کو


وہ سارے ٹھیک تھے بس، میں ہی ان میں نامناسب تھا


کئی رشتے بناے، سب کے سب ناخوش رہے مجھ سے


میری ماں، مجھ کو، بچپن سے ہی بڈھی روح کہتی تھی 


اندھیرا دوست تھا میرا، اداسی راس تھی مجھ کو


میں تنہائی میں بیٹھا دیر تک خاموشی سنتا تھا


کبھی سوچا، کوئی ہوتا..


میرے زخموں پہ مرہم رکھ کے جو کہتا


مجھے سب اپنے غم دے دو


اداسی بانٹ لو مجھ سے


سیاہی اپنی قسمت کی، میری تقدیر میں بھر دو


مگر کوئی نہیں آیا...