اتوار، 25 ستمبر، 2016

خاموشی

 خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے
اپنے آپ میں ہزاروں غم چھپائے جانے کیا سوچتی ہے
یوں تو بہت خوش بھی ہوتی ہے اور بہت اداس بھی

اس کی آواز میں اک شوخی سی ہے
اس کے لب پہ افسردگی سی ہے

خوشی اور اداسی کے اس لمحے جانے کیا ڈھونڈھتی ہے
خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے

اس کی آہٹ بہت خوبصورت سی ہے
اس کی ادا نازک سی ہے

یوں تو جانے محسوس کیا ہوتی ہے
خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے

اس کی آواز اک اداسی سی ہے
اس کی نظر میں کھوجتی سی دل لگی ہے
خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے

سانسوں کی زنجیر میں جکڑی ہوئی سی ہے
دلوں کی کیفیات میں ڈوبی ہوئی سی ہے

نظروں کے محور میں جھکی ہوئی سی ہے
اداؤں کے اس نگر میں شرمائی ہوئی سی ہے
خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں