خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے
اپنے آپ میں ہزاروں غم چھپائے جانے کیا سوچتی ہے
اس کی آواز میں اک شوخی سی ہے
اس کے لب پہ افسردگی سی ہے
خوشی اور اداسی کے اس لمحے جانے کیا ڈھونڈھتی ہے
خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے
اس کی آہٹ بہت خوبصورت سی ہے
اس کی ادا نازک سی ہے
یوں تو جانے محسوس کیا ہوتی ہے
خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے
اس کی آواز اک اداسی سی ہے
اس کی نظر میں کھوجتی سی دل لگی ہے
خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے
سانسوں کی زنجیر میں جکڑی ہوئی سی ہے
دلوں کی کیفیات میں ڈوبی ہوئی سی ہے
نظروں کے محور میں جھکی ہوئی سی ہے
اداؤں کے اس نگر میں شرمائی ہوئی سی ہے
خاموشی بولتی ہے دھیرے دھیرے لب کھولتی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں