ہونٹوں میں مسکراہٹ دل میں ہزاروں غم چھپائے بیٹھے ہیں
اس کے انتظار میں راہوں میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں
پوچھتے ہیں لوگ ہم سے اس افسردگی کی وجہ
پوچھتے ہیں لوگ ہم سے اس افسردگی کی وجہ
نہ جانے لوگ یہاں دل میں کتنے ماتم منائے بیٹھے ہیں
یہ دل کا بازار ہے یہاں کچھ نہیں ملتا سستے داموں
خریدنا ہے تو خرید لو ہم دل کا سودا کیے بیٹھے ہیں
یہ زندگی کا سفر ہے یہاں نہ چلنا ننگے پاؤں
نہ جانے لوگ یہاں کتنے راہوں میں کانٹے بچھائے بیٹھے ہیں
نہ ہو کسی کو کسی سے محبّت
نہ جانے لوگ یہاں کتنے محبّت کے افسانے بنائے بیٹھے ہیں
یہ دل کا بازار ہے یہاں کچھ نہیں ملتا سستے داموں
خریدنا ہے تو خرید لو ہم دل کا سودا کیے بیٹھے ہیں
یہ زندگی کا سفر ہے یہاں نہ چلنا ننگے پاؤں
نہ جانے لوگ یہاں کتنے راہوں میں کانٹے بچھائے بیٹھے ہیں
نہ ہو کسی کو کسی سے محبّت
نہ جانے لوگ یہاں کتنے محبّت کے افسانے بنائے بیٹھے ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں