ہفتہ، 24 ستمبر، 2016

مسکراہٹ

ہونٹوں میں مسکراہٹ دل میں ہزاروں غم چھپائے بیٹھے ہیں
اس کے انتظار میں راہوں میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں


پوچھتے ہیں لوگ ہم سے اس افسردگی کی وجہ
نہ جانے لوگ یہاں دل میں کتنے ماتم منائے بیٹھے ہیں

یہ دل کا بازار ہے یہاں کچھ نہیں ملتا سستے داموں
خریدنا ہے تو خرید لو ہم دل کا سودا کیے بیٹھے ہیں

یہ زندگی کا سفر ہے یہاں نہ چلنا ننگے پاؤں
نہ جانے لوگ یہاں کتنے راہوں میں کانٹے بچھائے بیٹھے ہیں

نہ ہو کسی کو کسی سے محبّت
نہ جانے لوگ یہاں کتنے محبّت کے افسانے بنائے بیٹھے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں