ہفتہ، 24 ستمبر، 2016

میرے ساتھ چلو

میں تم سے آخری بار کہنے آیا ہوں کہ میرے ساتھ چلو
میں تم سے تمام وعدے نبھانے آیا ہوں کہ میرے ساتھ چلو

تمہارے اور میرے بیچ یہ جو دوری ہے 
میں اس دوری کو مٹانے آیا ہوں کہ میرے ساتھ چلو

میں خواب دکھا کر پیچھے نہیں ہٹا
کہ میں ان خوابوں کو تکمیل دینے آیا ہوں کہ میرے ساتھ چلو

میں اور تم، تم اور میں، اس ذکر کو چھوڑو
میں تم سے تم کو چرانے آیا ہوں کہ میرے ساتھ چلو

تمہارے اور میرے درمیان اک بےنام سا بندھن ہے
میں اس بندھن کو نام دینے آیا ہوں کہ میرے ساتھ چلو

میں ادھورا ہوں تم بن
میں خود کو مکمّل کرنے آیا ہوں کہ میرے ساتھ چلو

تم ادھوری ہو مجھ بن میں جانتا ہوں
میں تم کو مکمّل کرنے آیا ہوں کہ میرے ساتھ چلو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں